ملک میں اتار چڑھاو وقتی ہیں ان سے گھبرانے کی نہیں:اخترالواسع

0
10

گاندھی میموریل سوسائٹی کا’’ہندوستانی مسلمان ماضی حال اور مستقبل‘کے عنوان سے سیمینار سے معززین کا خطاب
ممبئی:۔(پریس ریلیز)گذشتہ دنوںاسلام جمخانہ میں سرحدی گاندھی کے نام سے موسوم بادشاہ خان پر’ہندوستانی مسلمان ماضی حال اور مستقبل‘کے عنوان سے ایک قومی سمینار کا انعقاد کیا سرحدی گاندھی میموریل سوسائٹی جس کے روح رواں این سی پی اجیت دادا پوار گروپ اقلیتی سیل کے سربراہ ایڈووکیٹ سید جلال الدین ہیںنے کیا۔ایڈوکیٹکئی برسوں سے سرحدی گاندھی پر میوموریل لیکچر یا سمینار منعقد کرتے رہتے ہیں ۔ سمینار کی صدارت معروف صحافی و مصنف شمیم طارق نے کی ۔سرحدی گاندھی میموریل سوسائٹی کے صدر ایڈوکیٹ سید جلال الدین نے تمام مہمانوں کا تعارف پیش کرتے ہوئے ان کی خدمت میں گلہائے عقیدت پیش کیا۔بعدہ مذکورہ سمینار میں کلیدی خطاب پروفیسر اختر الواسع اور شمیم طارق نے کیا ۔ سابق اقلیتی وزیر نواب ملک اور ان کی دختر ثنا ملک نے بھی شرکا سے خطاب فرمایا ۔ نواب ملک نے کئی اہم نکات کی جانب اشارہ کیا ۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کی ترقی اور طرز حکومت میں مسلمانوں کا اہم کردار ہے لیکن ہم دوسروں کی باتیں کرتے ہیں مگر اپنی باتیں دنیا کو نہیں بتاتے ۔ نواب ملک کے مطابق سوشلزم اور جمہوریت کے تعلق سے دوروں کا نام لیا جاتا ہے مگر ہم دنیا کو یہ نہیں بتاتے کہ ہمارے نبی ﷺ نے انسانی حقوق اور انسانی مساوات کی بات اس وقت کی تھی جبکہ دنیا میں ظلم زیادتی اور تشدد کا زور تھا ۔ ملک نے حالیہ امریکہ اور بھارت تعلقات کے تناظر میں یہ بتایا کہ دنیا میں آج بھی صلاحیت اور قابلیت کی مانگ ہے ۔ امریکہ سے واپس آرہے بھارتی شہریوں کے تعلق سے انہوں نے بتایا کہ وہاں سے وہی واپس آرہے ہیں جن میں قابلیت نہیں ہے ۔ اسی طرح انہوں نے مسلم نوجوانوں کو مشورہ دیا کہ وہ روزگار اور تجارت کیلئے صرف خلیجی ممالک کا ہی رخ نہ کریں امریکہ اور یوروپ میں بھی مواقع کی تلاش میں جائیں ۔ این سی پی اجیت پوار کے ایم ایل سی نائک واڑی نے بھارت میں مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ کئے جانے کا تقابل فلسطین میں اسرائیل کے ذریعہ انہیں بے گھر کئے جانے ، ان کی گرفتاری اور جارحانہ رویہ سے کیا ۔خان عبدالغفار خان کے متعلق کہا کہ وہ برصغیر کے ایسے واحد رہنما تھےجو برٹش گورنمنٹ سے ٹکرانے کی پاداش میںاور ملک و قوم کی خاطر اپنی زندگی کے۳۹؍برس قیدوبند کی صعوبتیں برداشت کیں۔لیکن ان کی پیشانی پر بل تک نہیں آیا ۔سرحدی گاندھی پوری زندگی وسائل امن، تعلیم، ہندو مسلم اتحاد اور غربت کے خاتمے کے لیے نچھاور کر دی۔ یہ بات خوش آئند ہے کہ حکومت ہند نے خان عبدالغفار کو۱۹۸۷؍ میں’بھارت رتن‘ جیسے اعزاز سے نوازہ لیکن ان کی قیادت کو فراموش کر دیا گیا۔یہ اپنے علاقے کی باعزم اور باہمت و قوت و شجاعت سے لبریز بے خوف قوم ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ یہاں کا مسلمان صرف اپنی مرضی سے اس ملک میں رکا ہے کیونکہ وہ اس مٹی سے محبت کرتاہے۔ تمام تر ناامیدیوں کے باوجود آج بھی آخری سہارا مسلمانوں کے لیے صرف اور صرف عدالتیں ہی ہیں۔بلڈوزر،سیاسی، ظلم، مدرسوں کے خلاف کارروائیوں کے باوجود علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے اقلیتی کردار کی برقراری اور آئین کے پیش لفظ میں’سیکولر‘ اور’سوشلسٹ‘ الفاظ کو برقراررکھنے کے سپریم کورٹ کے فیصلے نے عدلیہ کی ساکھ کو کسی حد تک بحال کیا ہے۔مگر یہ بھی سچ ہے کہ کچھ سیاسی پارٹیاں ملک میں مسلمانوں کے خلاف فرقہ وارانہ ماحول کو اپنے سیاسی فائدے کے لیے استعمال کرتی آرہی ہیں۔پدم شری اخترالواسع نے عوام الناس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ جب آدم علیہ السلام کو جنت سے نکالا گیا تواسی ہندوستان کی سرزمین پربھیجا گیااس لئے ہندوستان ہمارا صرف ’مادروطن ‘ ہی نہیں بلکہ ’پدری وطن ‘بھی ہے۔ہندوستان ہمارا ملک صرف ’بائے برتھ‘نہیں ہے بلکہ’بائے چوائس‘ہے ہمارے سامنے دوسرے ملک کے دروازےکھلے ہوئے تھےلیکن ہم نے اور ہمارے بزرگوں نے یہ طئے کیا کہ ہمیں نہیں جانا ہے لیکن اس کے ساتھ ہی اس حقیقت کا اظہاربھی ہمارے اوپر واجب ہے اور ہمیں اسے تسلیم کرنا چاہئے کہ ایک ایسے وقت میں جب اس ملک کی تقسیم مذہب کے نام پر ہوچکی تھی اس بات کوشش کی گئی کہ اس ملک کو ایک ہندو راشٹر بنادیا جائےلیکن بھلا ہومہاتماگاندھی پنڈت جواہر لال،سردار ولبھ بھائی پٹیل،راج گوپال اچاریہ،راجندر پرشاد اور ڈاکٹر امبیڈکر کاجنہوں نے اس بات کو طئے کیا کہ ہندوستان ایک سیکولرملک کے طور پر وجود میں آئے گا۔ہندوستانی مسلمانوں کی زندگی میں بہت سارے اتار چڑھاو آئے وہ اس ملک میں محکوم بھی رہے، حاکم بھی رہے۔لیکن۱۹۴۷؍ کے بعد نہ حاکم رہے نہ محکوم رہے بلکہ اقتدار میں برابر کے شریک ہوئےیہ ہمیں نہیں بھولنا چاہئے۔انہوں نے دوران مخاطب مزید کہا کہ یاد رکھئے ہندوستان بنیادی طور پر سب کا ملک ہے۔دنیا کی کوئی ایسی مذہبی روایات نہیں ہے جس کا گہوارہ ہندوستان نہ ہو۔ملک عزیز دنیا کا واحد ملک ہے جہاں ۱۸؍ سے زائد زبانیں دستور کا حصہ ہیں۔اس ملک کے ہندووں کی ایک بڑی تعدادشریف ہندووں کی ہےجو یکجہتی پر یقین رکھتے ہوئے ہمیں ترقی پذیر دیکھنا چاہتے ہیں۔ہمیں ان کی اہمیت سے انکار نہیں کرنا چاہئے۔ اس ملک میں جو اتار چڑھاو آرہے ہیںوہ وقتی ہیں ان سے گھبرانے کی ضرورت نہیں ۔ ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ جو قوم سانحہ کربلا،سقوط بغداد،۱۸۵۷؍،۱۹۴۷؍،۱۹۶۲؍،۲۰۰۲؍ کے بعد بھی زندہ رہی وہ آگے بھی زندہ رہے گی۔ہمیں مستقبل کے لیے مایوس ہونے کی ضرورت نہیں۔انہوں نے ملک کے نوجوانوں کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ اس ملک کے نوجوانوں کو تعلیم اور روزگار میں آگے آکر اس ملک کی تعمیر و ترقی میں اہم رول ادا کرنا چاہئے۔اس پروگرام میں مہمان کی حیثیت سے ڈکٹر محمدعلی پاٹنکر، سرفراز آرزو،علی عباس،شری اویناش جی اوک کے علاوہ کثیر تعداد میں عوام الناس نے شرکت کرکے اس پروگرام کو کامیابی سے ہمکنار کیا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here